فلسفہ جس نے دنیا کو دیومالائی سماج سے نکال کر عقل ذریعے مُروج نظام کے خلاف بغاوت کا پرچم بلند کرکے سر اٹھا کر مُہذب انداز سے جینا سکھایا. جس کی پسلیوں میں سے ناجنے کتنے ہی فلسفیانہ افکار نے جنم لیا. جو کی فکری لحاظ سے تخلیق ہونے والے تمام فکری علوم کا تخلیقکار ہے۔ جس کے کاندھون پر چڑھ کے عقل نے وسیع کائنات کے مظاہر کو سمجھنا شروع کیا.جس نے زمین پر پائوں جماتے ہی دنیا میں انقلاب بھرپا کر دیئے۔ جس کی آج بھی اہمیت اور مقصد (Importance & scope) کسی بھی شعبے سے بلند تر ہے. اس شعبے کو منظم سازش کے تحت لاورث اور نظرانداز کرکے تمام وسائل چھین کر سماجی اور معاشی منڈی میں سے باھر نکال پھیکنا انتہائی نیچ اور غیرمنصفانہ عمل ہے. جس کی وجھ سے فلسفے کا شاگرد نہ صرف سماج میں فلسفے کے خلاف پھلے سے موجود غلط تصورات (Misconceptions) اور حقارت بھرا روایا برداشت کرتا ہے، لیکن فلسفی میں داخل ہونے کے بعد بھی فلسفی ڈپارٹمنٹ میں موجود حکومتی عدم توجھ کی وجھ سے کتنے ہی مسائل کا شکار ہوتا رہتا ہے. اور نہ صرف اتنا بلکی فلسفے شعبے میں تمام مشکل فلسفے پڑہنے کے بعد جب ھاتھ میں ڈگری لیتا ہے تو وہ ڈگری اختیاری اداروں اور سماج کے لیئے صرف ایک کورے کاغذ کے علاوہ کوئی حیثیت نہی رکھتی. فلسفے کو نہ صرف تعلیمی اداروں سے نکالا گیا ہے، بلکی اِس معاشرے میں بھی اس کے خلاف منفی رائے کی تشکیل کر کے فلسفیانہ بحث و مباحث پر غیراعلانیہ پابندی آئد کی گئی ہے. فلسفے کو بلاوسطہ، بحیثیت مضمون سکول اور کالیج سطح پر تو کبھی شامل ہی نہی کیا گیا اور فلسفے کی اھم شاخ (Branch)، اخلاقیات (Ethics) کو شامل کرنے کے بعد بہی اس مضمون میں کسی فلسفے کے ڈگری آفتہ لڑکے یا لڑکی کو بحیثیت ٹیچر اپوئنٹ کرنے کے بجائے اسلامیات کے ڈگری آفتہ ٹیچر کو ہی وہ مضمون حوالے کرنا، فلسفے سے بغض اور کم عقلی ہے.
اس کے علاوہ، ایک تو فلسفے شعبے کو سندھ کی کتنی ہی یونیورسٹیوں میں شامل ہی نہی کیا گیا اور ایک دو یونیورسٹیاں جیسے کی؛ یونیورسٹی آف سندھ اور کراچی یونیورسٹی میں شعبہءِ فلسفہ( 1952-53) سے شامل ہے بھی تو اس کے خلاف وقتن فوقتن بند کروانے یا سائکولاجی میں ذم کرنے کا دبائو ڈالنے سے یونیورسٹی انتظامیہ نے کبھی گریز نہی کیا. یہی سبب ہے کی مادرِعلمی سندھ یونیورسٹی میں شعبہ فلسفہ کتنی ہی سہولتوں سے نہ صرف جان بوجھ کر محروم رکھا گیا ہے، بلکی جہاں کراچی یونیوورسٹی میں فلسفے شعبے کے استاتذہ کا تعداد تقریبن پچیس کے قریب ہے وہاں سندھ یونیورسٹی میں محظ چھے فلسفے کے استاتذہ کام کر رہے ہیں. اس لئے نہ صرف خالی نشستوں پر ٹیچنگ فیکلٹی: جیسی کی؛ پروفیسر، اسوسئیٹ پروفیسر، اسسٹنٹ پروفیسر، لیکچرار کا تعداد بڑھایا جائے اور خالی ٹیچنگ اسسٹنٹ کی نشستوں پر نئے ٹیچنگ اسسٹنٹ اپوئنٹ کیئے جائیں.
اس کے علاوہ سندھ فلاسافیکل سوسائٹی یہ مانگ کرتی ہے کی جیسے کسی بھی مضمون کے لئے اُس مضمون کا ماہر استاد اپوئنٹ کیا جاتا ہے. ٹھیک اسی طرح سندھ کے تمام تعلیمی اداروں اسکول لیول پر اخلاقیات کے مضمون کے لئے فلسفے کے ڈگری آفتہ نوجوان مقرر کیئے جائیں اور کالج لیول پر فلسفے کا مضمون شامل کرکے لیکچرار مقرر کیئے جائیں اور سندھ کے مختلف یونیورسٹیوں میں فلسفہ بطور لازمی مضمون نہ صرف شامل کیاجائے، لیکن اس مضمون کو پڑھانے کے لئے کسی دوسرے شعبے کے بجائے فلسفے شعبے سے ڈگری آفتہ نوجوانوں کو مقرر کیا جائے۔ سندھ فلاسافیکل سوسائٹی، سندھ میں ترقی پسند فلسفیانہ تعلیم اور فکر میں ہی سندھی معاشرے کی حقیقی نجات سمجھتے ہیں. ہمارا مقصد سندھ یونیورسٹی کے ساتھ ساری سندھ میں فلسفیانہ تعلیمی اور تربیتی ورکشاپ کرانے، مختلف فلسفیانہ ڈسکورسس کو فروغ دینے اور فلسفے متعلق معاشرے میں موجود تمام غلط تصورات (Misconceptions) کو ختم کرکے فلسفے کی بہت اعلیٰ اہمیت اور مقصد (Importance & scope ) ہونے کے باوجود بھی اس کو پسماندہ رکھنے والی سوچ کے خلاف بغاوت کا پرچم بلند کرنا ہے۔
اس ذمن میں خودمختیار اور غیرجانبدار سندھ فلاسافیکل سوسائٹی کا قیام سندھی سماج میں فلسفے کو متعارف کرانا اور فلسفے کے کھوئے ہوئے عروج کو حاصل کرنے کی طرف سندھ فلاسافیکل سوسائٹی ہمارا پھلا قدم ہے.
مقصد اور اہداف Aims & objectives
1) سندھ فلاسافیکل سوسائٹی کا مقصد سندھی معاشرے میں فلسفیانہ تعلیم کو فروغ دینا ہے.
2) سندھی معاشرے میں فلسفے جیسے اھم موضوع پر چند کتب کے علاوہ صرف بایوگرافیکل نوٹس ہی لکھے گئے ہیں اس لئے سندھ فلاسافیکل سوسائٹی اس خال (Vacume) کو پُر کرنے کے لئے سندھ کی تاریخ میں پھلی مرتبہ نج فلسفیانہ سالیانی میگزین (Magazine) مختلف تعلیمی تربیتی ورکشاپس، سیمینار اور فلسفے پر مبنی کتابی محنت کو شایع کروانے کے لئے جدوجہد کرے گی.
3) سندھ فلاسافیکل سوسائٹی اسٹڈی سرکل کے ذریعی نوجوانوں میں فلسفہ متعارف کروانے اور فلسفیانہ تعلیم کی اہمیت اور مقصد( Importance & scope) کی ایکیسویں صدی کے کانیٹیکس میں تنقیدی انداز میں دوبارا بیان کرنے میں موثر اقدامات اٹھانا ہے.
4)سندھ فلاسافیکل سوسائٹی اپنے پلیٹفارم سے سندھ اور دنیا کی اھم ترین تاریخی شخصیات کے علمی اور ادبی کام کو خراجِ تحسین پیش کرے گی۔
5) سندھ فلاسافیکل سوسائٹی سندھی معاشرے میں فلسفے کے خلاف غلط تصورات (Misconceptions) کو دور کرنے اور فلسفے کے کھوئے ہوئے وقار کو حاصل کرنے کے لئے سرگرم رہے گی.
6) سندھ فلاسافیکل سوسائٹی فلسفے کو مارکِیٹ سے خارج (De-Market) کرنے والی سوچ کے خلاف آواز بلند کرے گی اور سندھ کے تعلیمی ادارون میں فلسفے کو ایک اہم مضمون کے طور پر شامل کرانے کے لئےکوششیں کریں گی۔
7) سندھ فلاسافیکل سوسائٹی سندھ کی تاریخ میں پھلی مرتبہ خالص فلسفے کے موضوعات پر مضامین کی آنلائن اشاعت کے لئے ویبسائیٹ اور ویڈیو ٹاکس کے لئے ایک یوٹیوب چینل (سندھی اور اردو ) میں شروع کرنے کے لئے موثراقدامات اٹھائے گی تاکی فلسفیانہ تعلیمی کی رسائی تمام لوگوں تک آسان بنائی جا سکے.
8)سندھ فلاسافیکل سوسائٹی "دنیا کی سیاسی، سماجی اور معاشی منظرنامے پر حاوی مختلف ڈسکورسس کو تنقیدی انداز میں سمجھنے کی کوشش کرے گی۔
9) سندھ فلاسافیکل سوسائٹی اپنے یوٹیوب چینل اور فیسبک پیج سے مختلف کتابوں پر تفصیلی تنقیدی جائزے پیش کرتی رہے گی۔

0 Comments